بسم الله الرحمن الرحيم۔ والصلاة والسلام على سيدنا محمد وآله وصحبه وسلم تسليما كثيرا
اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، بے حد رحم فرمانے والا ہے۔ اور درود و سلام ہو ہمارے سردار محمد ﷺ پر، اور آپ کی آل و صحابہ پر، کہ خوب خوب درود و سلام بھیجا جائے۔
الحمد لله الذي أنزل على نبينا محمد - صلى الله عليه وسلم - أدلة الشرع الإجمالية والتفصيلية وأمر العلماء باستخراج الفروع منها بالنظر المستمد من أنواره الساطعة الجلية ، وجعل معانيها لا تنفد أبد الآباد السرمدية ، وجعل علماء هذه الأمة يجددون الشريعة كأنبياء بني إسرائيل،
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے نبی محمد ﷺ پر شریعت کے اجمالی اور تفصیلی دلائل نازل فرمائے۔ اور علماء کو حکم دیا کہ وہ ان روشن اور واضح انوار سے استفادہ کرتے ہوئے ان دلائل سے فروع کو نکالیں۔ اور ان معانی کو ایسا بنایا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ اور ابدی زمانوں تک ختم نہ ہوں۔ اور اس امت کے علماء کو ایسا بنایا کہ وہ شریعت کی تجدید کرتے ہیں، جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء کرتے تھے۔
كلما فنيت طبقة خلفتها طبقة قائمة بالوظائف السنية؛ والصلاة والسلام على سيدنا محمد الآمر بالنظر في أصول الشريعة الكلية، واستنباط الفروع الجزئية، وعلى آله وأصحابه البالغين في العلم الشرعي درجة الاجتهاد العلية، الذين من اقتدى بهم ناج لأن الله تعالى جعل أقوالهم وأفعالهم حجة شرعية، صلاة وسلاما دائمين متلازمين إلى يوم يوزن مداد العلماء بدم الشهداء، وتكون لمداد العلماء في الوزن الرجحانية.
جب بھی ایک جماعت فنا ہو جاتی ہے، اس کی جگہ دوسری جماعت ان عالی مرتبت ذمہ داریوں کو سنبھال لیتی ہے۔ اور درود و سلام ہو ہمارے سردار محمد ﷺ پر، جو کلی شرعی اصولوں میں غور و فکر کا حکم دینے والے ہیں۔ اور جزئی فروع کے استنباط (اخذ) کا بھی حکم دینے والے ہیں۔ اور آپ کی آل اور صحابہ پر، جو علمِ شریعت میں اجتہاد کے اعلیٰ درجے تک پہنچے ہوئے ہیں۔جن کی اقتداء کرنے والا نجات پاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اقوال اور افعال کو شرعی حجت بنایا ہے۔ ایسا درود و سلام جو ہمیشہ اور مسلسل رہے، یہاں تک کہ وہ دن آ جائے جب علماء کی روشنائی کو شہداء کے خون کے ساتھ تولا جائے گا۔اور اس وقت علماء کی روشنائی وزن میں غالب آ جائے گی۔
فيقول أفقر العبيد إلى مولاه الغني عمن سواه، محمد يحيى بن محمد المختار بن الطالب عبد الله: هذا شرح واضح طلبه مني من لا تسعني مخالفته، وتجب طبعا على نفسي مساعدته وموافقته، وهو أخي وحبيبي عبد الله بن سيدي أحمد، طلب مني أن أشرح له منظومة أبيه الشهير الفقيه النحرير سيدي أحمد بن محمد بن أبي كف التي جمع فيها أصول مذهب مالك بالعد لا بالبحث عن عوارضها الذاتية، ولا بتعريفها بالحد تقريبا لحفظها وفهمها واستحضارها لمن له علم بعوارضها وحدودها وله اعتناء باستعمالها واعتبارها.
پس کہتا ہے اپنے مولیٰ کے سب سے زیادہ فقیر بندوں میں سے ایک، جو اپنے مولیٰ کے سوا ہر چیز سے بے نیاز ہے، محمد یحییٰ بن محمد المختار بن الطالب عبداللہ: یہ ایک واضح شرح ہے جسے مجھ سے اس نے طلب کیا جس کی مخالفت کی میرے لیے گنجائش نہیں، اور میری طبیعت پر اس کی مدد اور موافقت لازم ہے۔ اور وہ میرے بھائی اور محبوب عبد اللہ بن سیدی احمد ہیں۔انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں ان کے والد، مشہور اور ماہر فقیہ سیدی احمد بن محمد بن ابی کف کی منظومہ کی شرح لکھوں۔ جس میں انہوں نے امام مالکؒ کے مذہب کے اصولوں کو محض گنتی کے انداز میں جمع کیا ہے، نہ کہ ان کی ذاتی عوارض کی تحقیق کرکے۔ اور نہ ہی ان اصولوں کو حد (تعریف) کے ذریعہ بیان کیا ہے، بلکہ یاد کرنے، سمجھنے اور مستحضر رکھنے میں آسانی کے لیے، ان کے لیے جو ان اصولوں کے عوارض اور حدود سے واقف ہیں اور ان کے استعمال اور غور و فکر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔